قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ واالہ : إنّما سمّي رمضان، لأنّه يحرق الذنوب ؛ اس مہینہ کا نام رمضان اس لئے رکھا گیا کہ یہ مہینہ گناہوں کو جلا دیتا ہے ۔ (شرح فروع الکافی ،ج/۴)

مولائے كائنات(ع) كے نام پيغمبر(ص) كي وصيت

۱۔ الصبر علي الدنيا ؛ علي عليہ السلام كو حكم ديا كہ دنيا كي سختيوں ميں صبر كا مظاہرہ كريں ، دنيا مولائے كائنات كے لئے مشكلات و مصائب كا سبب تھي اور آپ(ع) كے لئے سخت ترين مشكلات و مصائب كا جال بن ركھا تھا ۔
۲۔ بحفظ فاطمۃ ؛ پيغمبر(ص) نے علي عليہ السلام كو فاطمہ كي حفاظت كا حكم ديا چونكہ پيغمبر كي آنكھيں اپنے بعد آنے والے حالات كو ديكھ رہي تھيں كہ كس طرح جناب فاطمہ كے گھر كي حرمت پامال كي جائے گي اور آپ كو اذيت پہنچائي جائے گي اس لئے آپ نے جناب فاطمہ (س) كي حفاظت كي وصيت فرمائي ۔
۳۔ بجمع القرآن ؛ قرآن كو جمع كريں تاكہ قرآن كا كوئي حصہ ضائع نہ ہونے پائے ، كچھ لوگ تھے ايسے جو چاہتے تھے كہ قرآن يوں ہي متفرق رہے اور اس طرح مكمل قرآن يا اس كا كچھ حصہ ختم ہو جائے اور ان كا مقصد حاصل ہو جائے ۔ يقيناً جن لوگوں نے پيغمبر(ص) كي بہترين يادگار جس كو نبي نے اپنا جگرپارہ كہا تھا كو نہ رہنے ديا انھيں قرآن ختم كرنے ميں كيا خوف و ہراس ہوتا ۔

آل خليفہ كے مظالم كي مذمت ميں حضرت آيۃ اللہ العظميٰ صافي كا پيغام

بسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ
مَنْ سَمِعَ مُنَادِياً يُنَادِي ‏ يَا لَلْمُسْلِمِينَ ‏ فَلَمْ يُجِبْهُ فَلَيْسَ بِمُسْلِمٍ
دردناك مظالم اور آل سعود كے ساتھ آل خليفہ كے وحشيانہ حملے بحرين كے مظلوم لوگوں پر بڑھتے جا رہے ہيں ، مرد ، عورتيں اور شيرخوار بچے ، اسپتال اور ڈاكٹر سبھي ان حملوں كي زد پر ہيں ۔
آج بحريني عوام اپنے بنيادي حقوق كا مطالبہ كرنے كے جرم ميں بدترين مظالم كا شكار ہو رہي ہے ليكن وہ ان تمام مظالم كو سہتے ہوئے اپنے مطالبہ پر ثابت قدم ہے اور احتجاجات و مظاہروں كے ذريعہ آل سعود و آل خليفہ كي مذمت كر رہي ہے ۔
بين الاقوامي تنظيميں بالخصوص تنظيم حقوق انساني كے عہديداروں كو اگر كہيں ذرا سي تكليف ہو جائے تو ان كي چيخ پكار شروع ہو جاتي ہے ، مذمت كرنا شروع كر ديتے ہيں ليكن وہ بھي ان تمام مظالم كے سامنے مغربي دنيا اور امريكہ كے منافع كي حفاظت كے لئے خاموش ہيں ان كي خاموشي دنيا كے سامنے يہ ثابت كر رہي ہے كہ ان تنظيموں كے يہ نعرے صرف دنيا كے كمزور ممالك كو اپنے چنگل ميں پھنسا كر ركھنے كيلئے اور ان كے حقوق كو پامال كرنے كے لئے ہيں ۔ اس سے زيادہ افسوسناك بات اسلامي كانفرنس اور عرب ليگ كي خاموشي بلكہ آل خليفہ اور آل سعود كي ان مظالم ميں ہمراہي ہے ۔

امام حسين عليہ السلام كے غم سياہ لباس پہننے كا استحباب

محضر مبارك حضرت آيۃ اللہ العظميٰ شيخ لطف اللہ صافي گلپائگاني دامت بركاتہ
سوال : حضرت عالي كي نظر ميں امام حسين عليہ السلام اور ديگر ائمہ كے غم سياہ لباس پہننا شرعي رجحان ركھتا ہے يا نہيں ؟

بسم اللہ الرحمن الرحيم
سلام اللہ و سلام انبيائہ وملائكتہ علي سيدنا ومولانا ابي عبداللہ الحسين المظلوم سيد الشہداء وابي الاحرار وعليٰ اہل بيتہ واولادہ واصحابہ ۔
جواب : چونكہ كالے لباس اہل مصيبت كا شعار اور غم زدہ افراد كي نشاني ہيں لہذا حضرت سيد الشہدا(ع) اور ديگر ائمہ عليہم السلام كے غم ميں ان كا پہننا بے شك رجحان ركھتا ہے اور شعاير الٰہي كي تعظيم ،اہل بيت عليہم السلام سے محبت اور ان كے دشمنوں سے نفرت، ان كے ايثار و فداكاريوں اور راہ حق ميں شہادت كي قدرداني اور دين اسلام كي حفاظت اور بہت سے عناوين كا مصداق ہونے كي وجہ سے رجحان ركھتا ہے ۔
عراق كے شيعوں ميں رائج ہے كہ وہ دس دن محرم ميں اپنے گھر كے اوپر سياہ پرچم لہراتے ہيں ،يہاں تك كہ اگر كوئي سنسان جنگل ميں كسي چھوپڑي ميں بھي رہتا ہے تو وہ بھي اپنے گھر پر سياہ پرچم ضرور لگاتا تھا ۔

اسلام كي رونق ولايت اميرالمومنين عليہ السلام اور احيائے دين كي وجہ سے ہے : حضرت آيۃ اللہ العظميٰ صافي گلپائگاني

سپاہ پاسداران انقلاب اسلامي كے افسران اور مسلح افواج ميں دفتر نمائندہ ولي فقيہ كے سربراہوں نے ۸ نومبر كي صبح ميں حضرت آيۃ اللہ العظميٰ صافي سے ملاقات كي ۔
حضرت آيۃ اللہ العظميٰ صافي نے اس ملاقات كے دوران حاضرين كو عيدالاضحيٰ اور عيد غدير كي مباركباد پيش كرتے ہوئے فرمايا : سپاہ پاسداران انقلاب اسلامي اور مسلح افواج ہي كے سبب آج اسلامي انقلاب اور اسلامي حكومت و مملكت كو يہ عظمت و شكوہ حاصل ہوا ہے ۔
انھوں نے اسلامي حكومت كے ہر شعبے ميں علماء كي موجودگي كو ضروري قرار ديتے ہوئے فرمايا : سپاہ پاسداران انقلاب اسلامي اور مسلح افواج كے درميان جس طرح علماء كي موجودگي بہترين فرصت ہے اور اس كے بہت سے فائدے اور بركات ہيں اس فرصت كو غنيمت سمجھنا چاہئے ۔
مرجع عاليقدر نے فرمايا : مسلح افواج كے درميان علماء كي موجودگي ہي كي وجہ سے آج انقلاب كے اصلي اہداف محفوظ ہيں جس كي وجہ سے ہم دين ، اسلام اور ولايت كي راہ پر ثابت قدم ہيں ، ہميں اسي ثبات قدم كے ساتھ آگے بڑھنا چاہئے تاكہ يہ اہداف آخر تك محفوظ رہيں ۔
انھوں نے اس بات كي تاكيد كي كہ جس طرح مسلح افواج ظاہري اسلحوں سے مسلح ہيں اسي طرح انھيں معنوي اور ايماني اسلحوں سے بھي مسلح رہنا چاہئے ۔ اس لئے كہ اگر دونوں اسلحے ان كے ساتھ ہوئے تو ميدان عمل ميں كبھي بھي يہ مشكل سے دوچار نہيں ہوں گے ۔

اسلام كي رونق ولايت اميرالمومنين عليہ السلام اور احيائے دين كي وجہ سے ہے : حضرت آيۃ اللہ العظميٰ صافي گلپائگاني

سپاہ پاسداران انقلاب اسلامي كے افسران اور مسلح افواج ميں دفتر نمائندہ ولي فقيہ كے سربراہوں نے ۸ نومبر كي صبح ميں حضرت آيۃ اللہ العظميٰ صافي سے ملاقات كي ۔
حضرت آيۃ اللہ العظميٰ صافي نے اس ملاقات كے دوران حاضرين كو عيدالاضحيٰ اور عيد غدير كي مباركباد پيش كرتے ہوئے فرمايا : سپاہ پاسداران انقلاب اسلامي اور مسلح افواج ہي كے سبب آج اسلامي انقلاب اور اسلامي حكومت و مملكت كو يہ عظمت و شكوہ حاصل ہوا ہے ۔
انھوں نے اسلامي حكومت كے ہر شعبے ميں علماء كي موجودگي كو ضروري قرار ديتے ہوئے فرمايا : سپاہ پاسداران انقلاب اسلامي اور مسلح افواج كے درميان جس طرح علماء كي موجودگي بہترين فرصت ہے اور اس كے بہت سے فائدے اور بركات ہيں اس فرصت كو غنيمت سمجھنا چاہئے ۔
مرجع عاليقدر نے فرمايا : مسلح افواج كے درميان علماء كي موجودگي ہي كي وجہ سے آج انقلاب كے اصلي اہداف محفوظ ہيں جس كي وجہ سے ہم دين ، اسلام اور ولايت كي راہ پر ثابت قدم ہيں ، ہميں اسي ثبات قدم كے ساتھ آگے بڑھنا چاہئے تاكہ يہ اہداف آخر تك محفوظ رہيں ۔
انھوں نے اس بات كي تاكيد كي كہ جس طرح مسلح افواج ظاہري اسلحوں سے مسلح ہيں اسي طرح انھيں معنوي اور ايماني اسلحوں سے بھي مسلح رہنا چاہئے ۔ اس لئے كہ اگر دونوں اسلحے ان كے ساتھ ہوئے تو ميدان عمل ميں كبھي بھي يہ مشكل سے دوچار نہيں ہوں گے ۔

ماہ ذي الحجہ كي آمد پر حضرت آيۃ اللہ العظميٰ صافي كا پيغام

بسم الله الرحمن الرحيم
قال الله تعالي: إِنَّ عِدَّةَ الشُّهُورِ عِنْدَ اللهِ اثْنَا عَشَرَ شَهْراً فِي كِتَابِ اللهِ (سورہ توبہ آيت/۳۶)
ماہ ذي الحجۃ الحرام جو كہ وحي و قرآن كے مطابق حرام مہينوں ميں سے ايك ہے اور خداوند عالم كے نزديك مہينوں ي تعداد بارہ ہے ۔ہر سال كي طرح اس سال بھي مشرق و مغرب سے لاكھوں لوگ عشق و ايمان ، شور و شوق اور روحاني و ملكوتي معراج پانے كے لئے مسجد الحرام و ميدان عرفات اور مشعر الحرام ميں جمع ہوئے ہيں تاكہ دنيا والوں كے سامنے اپني ہمدلي اور برادري كا اظہار كر سكيں ۔
يہاں پر سبھي رنگ و نسل و دنياوي امتيازات كو نظرانداز كر كے ہم زبان و ہم صدا ہو كر خدا كے سامنے لبيك كہتے ہيں اور اس كي بارگاہ ميں راز و نياز كرتے ہيں اور اس كا شكريہ ادا كرتے ہيں ۔
اس سے بہترين حالت اور اس سے زيادہ روحاني فضا اور كوئي نہيں ہو سكتي ہے وہاں ہر ايك خدا كو اپنے دل كي آنكھوں سے ديكھتا ہے اور خود كو اس سے رگ گردن سے زيادہ قريب پاتا ہے ، پردے ہٹا ديئے جاتے ہيں اور قربت كي بساط پھيلا دي جاتي ہے ۔
يقيناً كتنا حسين ہے ذي الحجۃ الحرام كا چاند ،جس كا نور دلوں كو پراميد بنا ديتا ہے نيازمندوں ، توبہ كرنے والوں كو حاجت برآوري اور توبہ كي قبوليت كي خوشخبري ديتا ہے كہ آؤ اور يہ دلنواز صدا سنو " لَا تَقْنَطُوا مِنْ رَحْمَةِ اللهِ إِنَّ اللهَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعاً " اور خود كو قرب الٰہي اور معراج كے لئے آمادہ كرو اور ياد ركھو كہ كہيں تم ان عظيم لمحات كو غفلت كي نذر نہ كر دو۔

حضرت آيۃ اللہ العظميٰ صافي نے اس سال عيد غدير كو باشكوہ طريقے سے منانے كي تاكيد كي

پنجشنبہ كي صبح حضرت آيۃ اللہ العظميٰ صافي نے مشہد مقدس ميں غدير شناسي كے موضوع پر ايك اجتماع منعقد كرنے والي انجمن كے ممبران سے ملاقات كي ۔
آيۃ اللہ العظميٰ صافي نے اس انجمن كے ممبران سے ملاقات پر خوشي كا اظہار كرتے ہوئے فرمايا : ميري خوش نصيبي ہے كہ ميں آپ جيسے لوگوں كي زيارت كر رہا ہوں جو غدير شناسي جيسے موضوع پر اجتماع برپا كرنے والے ہيں ، انشاء اللہ آپ كي يہ كوشش امر اہلبيت عليہم السلام كے احياء اور امام زمانہ(عج)كي خوشنودي كا باعث ہو ۔
انھوں نے اہلبيت عليہم السلام كي خدمت كي توفيق كو معصومين عليہم السلام كي عنايات و توجہ كا باعث بتايا اور فرمايا : جو لوگ خود كو امر اہلبيت(ع) كے احياء كے لئے وقف كر چكے ہيں انھيں اپنے مقدر پر ناز كرنا چاہئے اور يہ سمجھنا چاہئے كہ يہ توفيق ہر كس و ناكس كو نصيب نہيں ہوتي ہے بلكہ يہ توفيق اس بات كي علامت ہے كہ خدا كي خاص عنايت ہے جو آپ كو يہ مقام ملا ہے ۔
مرجع عالقيدر نے تمام مسلمانوں كو امر اہلبيت(ع) كے احياء كي دعوت ديتے ہوئے فرمايا : تمام مسلمانوں كو اس امر كو زندہ ركھنے ميں تعاون كرنا چاہئے اور يہ يقين ركھنا چاہئے كہ يہ مسئلہ بہت ہي اہم مسائل ميں سے ہے ۔
معظم لہ نے تمام لوگوں كو مذہبي محافل بالخصوص عيد غدير كے جشن ميں شريك ہونے كي تاكيد كرتے ہوئے فرمايا : عيد غدير كي تعظيم اور محافل ميں شركت ذاتي ذوق و شوق كي وجہ سے ہوتي ہے لہذا ہر انسان وہاں نہيں پہنچ پاتا بلكہ صرف انہيں توفيق ہوتي ہے جو اہلبيت(ع) كے مشتاق ہوتے ہيں ، يہ كام بہت ہي دشوار ہے بغير عشق اہلبيت(ع) كے يہ پورا نہيں ہوسكتا ہے ۔

كروشيا كے مفتي اعظم كے نائب نے حضرت آيۃ اللہ العظميٰ صافي سے ملاقات كي

چہارشنبہ كي شب ميں كروشيا كے مفتي اعظم كے نائب عزيز حسنويچ نے آيۃ اللہ العظميٰ صافي سے ان كے دفتر ميں ملاقات كي
معظم لہ نے اس ملاقات پر خوشي كا اظہار كرتے ہوئے مسلمانوں كے درميان اتحاد و اتفاق خاص كر ايران اور يورپي مسلمانوں كے درميان اتحاد و اتفاق كي پرزور تاكيد كي ۔
انھوں نے اپني گفتگو كے دوران بلقان كے مسلمانوں كے ايمان و صلابت و استقامت كي تعريف كيا كہ انھوں نے طويل مدت كميونيسٹ حكومت ميں گزارنے كے باوجود اپنے ايمان و عقيدہ كو محفوظ ركھا ۔
مرجع عاليقدر نے فرمايا: ۸۰ سال پہلے بلقان علاقے كے مسلمانوں كے مسائل ميري تشويش كا باعث تھے اور ہم وہاں رہنے والے اپنے بھائيوں اور بہنوں كو ہميشہ ياد كرتے ہيں اور خود كو ان كي خوشيوں اور غموں ميں شريك سمجھتے ہيں ۔
انھوں نے فرمايا : اس علاقے كے مظلوم شہداء اسلام كے عظيم شہيد ہيں انشاء اللہ خداوند عالم انھيں صدر اسلام كے شہداء كے ساتھ محشور كرے گا ۔
معظم لہ نے آخر كلام ميں تمام مسلمانوں كي كاميابي و سربلندي كے لئے دعا كي ۔
اس ملاقات كي ابتدا ميں كروشيا كے مفتي اعظم كے نائب عزيز حسنويچ نے بلقان كے مسلمانوں كے حالات پر مشتمل ايك رپورٹ معظم لہ كي خدمت ميں پيش كي۔

مرحوم آيۃ اللہ العظميٰ آقا نجفي اصفہاني قدس سرہ كي ۱۰۰ويں برسي پر آيۃ اللہ العظميٰ صافي كا پيغام

بسم اللہ الرحمٰن الرحيم
" لولا من يبقي بعد غيبة قائمنا عليه‌السلام من العلماء الداعين اليه و الدالين عليه و الذابين عن دينه ... لما بقي أحد الا ارتد عن دين الله "
السلام عليكم و رحمة الله
حاضرين گرامي، علمائے اعلام و دانشمندان محترم كي خدمت ميں عرض ادب و احترام كے ساتھ ہديہ سلام و تحيات پيش كرتا ہوں مجاہد عظيم آيۃ اللہ العظميٰ آقاي شيخ محمد تقي نجفي اصفہاني كي روح پاك پر جو ايك عالم باعمل اور صاحب فضيلت و نابغہ عصر تھے ۔
مذكورہ روايت ۔ جس كے كامل مصداق مرحوم اصفہاني ہيں جنہوں نے نصرت دين ،جہاد در راہ حق اور كلمۃ اللہ كي سر بلندي كے لئے تا عمر كوشش كيا ۔ كا ترجمہ يہ ہے ۔
امام علي نقي عليہ السلام فرماتے ہيں : اگر قائم آل محمد(ع) كي غيبت كے بعد ايسے علماء نہ ہوتے جو دين كي طرف دعوت ديتے دين كي طرف رہنمائي كرتے اور دين كا دفاع كرتے تو ۔۔۔۔۔ روئے زمين پر ہر انسان دين سے مرتد ہو جاتا ۔ يعني دين كي بقا اور لوگوں كا دين پر باقي رہ جانا انھيں علماء كے سبب ہے ۔

ائمہ اطہار عليہم السلام سے توسل دنياداري سے رہائي اور گمراہي سے نجات كا ذريعہ ہے : حضرت آيۃ اللہ العظميٰ صافي گلپائگاني

۲۸ ستمبر چہارشنبہ، عشرہ كرامت كي مناسبت سے جشن كا انعقاد كرنے والي انجمن كے ممبران نے حضرت آيۃ اللہ العظميٰ صافي سے ملاقات كي ۔
معظم لہ نے اس ملاقات كے دوران عشرہ كرامت كے مبارك ايام كي مباركباد پيش كرتے ہوئے فرمايا : يہ عشرہ بہت ہي با عظمت ہے ہميں ان ايام كا احترام كرنا چاہئے اور ان ايام ميں اپنے مذہبي شعائر كي تعظيم كرني چاہئے ۔
انھوں نے دھھ كرامت كے پروگراموں كو امر اہلبيت عليہم السلام كا احياء قرار ديتے ہوئے فرمايا : امر اہلبيت(ع) كا احياء عظيم عبادتوں ميں سے ہے اور اسي كے ذريعہ دين ، قرآن اور توحيد زندہ ہے اس لئے جو بھي اس راہ ميں قدم اٹھائے گا امام زمانہ(عج) اس سے راضي و خوشنود ہوں گے ۔
مرجع گرانقدر نے ائمہ اطہار(ع) سے توسل كو بشريت كي نجات اور ہدايت كا ذريعہ بتاتے ہوئے فرمايا : چونكہ اہلبيت عليہم السلام سے توسل دنياداري سے رہائي اور گمراہي سے نجات كا باعث ہے ۔
حضرت آيۃ اللہ العظميٰ نے تصريح كي كہ آج انسانيت اہلبيت عليہم السلام كي ہدايتوں كي مرہون منت ہے چونكہ اہلبيت(ع) اور عظيم محدثين كے ذريعہ لوگوں تك اسلامي معارف پہنچے ہيں جس كي وجہ سے لوگوں كو گمراہيوں سے نجات ملي ہے ، اس لئے عالم انسانيت كو ان ہدايتوں كي قدر كرني چاہئے ۔
معظم لہ نے فرمايا : ہم جتنا بھي اہلبيت(ع) كا ذكر كريں ، ان كے فضائل و مناقب كو بيان كريں كم ہے ، ہميں ائمہ اطہار عليہم السلام كي زيارتگاہوں كي طرف زيادہ سے زيادہ توجہ كرني چاہئے اور ان مقامات مقدسہ كا احترام اور تعظيم كرني چاہئے ۔