حضرت فاطمہ معصومہ سلام اللہ عليھا
معصومہ قم (س) كي ولادت با سعادت يكم ذيقعدہ سن ۱۷۳ ہجري ميں مدينہ منورہ ميں ہوئي آپ كے والد گرامي حضرت امام موسيٰ كاظم عليہ السلام اور والدہ حضرت نجمہ خاتون تھيں جو امام رضا عليہ السلام كي بھي والدہ ہيں ۔ اس لحاظ سے آپ كي پرورش ايسے ماحول ميں ہوئي جو اخلاقي فضائل سے آراستہ تھا ۔ زہد و تقويٰ صداقت و عبادت مصائب و شدائد ميں صبر و استقامت اور ذكر خدا ميں مشغوليت اس خاندان كے برجستہ صفات ميں سے ہے ۔
سرچشمہ علم و حكمت
معصومہ قم (س) كي ولادت با سعادت يكم ذيقعدہ سن ۱۷۳ ہجري ميں مدينہ منورہ ميں ہوئي آپ كے والد گرامي حضرت امام موسيٰ كاظم عليہ السلام اور والدہ حضرت نجمہ خاتون تھيں جو امام رضا عليہ السلام كي بھي والدہ ہيں ۔ اس لحاظ سے آپ كي پرورش ايسے ماحول ميں ہوئي جو اخلاقي فضائل سے آراستہ تھا ۔ زہد و تقويٰ صداقت و عبادت مصائب و شدائد ميں صبر و استقامت اور ذكر خدا ميں مشغوليت اس خاندان كے برجستہ صفات ميں سے ہے ۔
سرچشمہ علم و حكمت
امام موسيٰ كاظم عليہ السلام كي شہادت كے بعد امام رضا عليہ السلام عہدہ دار امامت ہوئے اور آپ ہي نے حضرت معصومہ كي تربيت كي ذمہ داري سنبھالي ۔ امام رضا (ع) كي تربيت كي وجہ سے امام موسيٰ كاظم عليہ السلام كے گھر كي ہر فرد كو علم و حكمت ميں عظيم مقام و مرتبہ ملا ۔
ابن صباغ مالكي كہتا ہے : بے شك امام كاظم عليہ السلام كے فرزندوں ميں امام رضا عليہ السلام كے بعد جو شخصيت علم و اخلاق كے عظيم منزلت پر فائز ہے حضرت معصومہ (ع) ہيں ۔ حضرت كي يہ صفت ائمہ اطہار كي جانب سے وارد ہونے والي احاديث سے ظاہر ہے ۔ يہ حقيقت ہے كہ آپ بھي حضرت زينب سلام اللہ عليھا كي طرح عالمہ غير معلمہ تھيں ۔
زيارت حضرت معصومہ (س)
حضرت معصومہ كے مرقد مطہر كي زيارت سے انسان كے اندر اعتماد بہ نفس پيدا ہوتا ہے ، ساتھ ہي زائر كے دل ميں يہ احساس پيدا ہوتا ہے كہ وہ اس دنيا ميں مستقل و خودمختار نہيں بلكہ وہ كسي ايسي ذات كا محتاج ہے جو لا يزال اور غني ہے اور پھر وہ اس ذات كے سامنے اپنا سر جھكا ديتا ہے ۔ اس طرح وہ تكبر و غرور جيسے پست صفات سے خود كو دور كر كے سعادت و خوش بختي كے راستے كو اپناتا ہے اسي لئے معصومہ قم كي زيارت كرنے والے كو جنت كي بشارت دي گئي ہے جيسا كہ امام محمد تقي عليہ السلام فرماتے ہيں : جو بھي شہر قم ميں ميري پھوپھي كے قبر كي زيارت كرےگا جنت اس پر واجب ہے ۔
خداوند متعال ہميں حضرت معصومہ(س) كي زيارت نصيب فرمائے ۔ آمين