قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ واالہ : إنّما سمّي رمضان، لأنّه يحرق الذنوب ؛ اس مہینہ کا نام رمضان اس لئے رکھا گیا کہ یہ مہینہ گناہوں کو جلا دیتا ہے ۔ (شرح فروع الکافی ،ج/۴)

امام رضا عليہ السلام كے اخلاقي فضائل

آپ كا اسم گرامي علي كنيت ابو الحسن اور مشہور لقب رضا ہے۔ آپ سلسلہ امامت كي آٹھويں كڑي اور دسويں معصوم ہيں ۔ آپ كي ولادت مشہور قول كي بنياد پر ۱۱ ذيقعدہ سن ۱۴۸ ہجري كو ہے جبكہ بعض لوگوں نے ماہ ذي الحجہ يا ربيع الاول بھي لكھا ہے اور بعض مورخين نے آپ كا ولادت سن ۱۵۳ ہجري لكھا ہے ۔
چونكہ مولائے كائنات (ع) كا لقب بھي ابوالحسن تھا اس لئے آپ كو ابوالحسن ثاني كہتے ہيں اور آپ كا لقب رضا اس لئے ہے كہ دوست اور دشمن سبھي آپ سے راضي تھے ۔
 

آپ كا اسم گرامي علي كنيت ابو الحسن اور مشہور لقب رضا ہے۔ آپ سلسلہ امامت كي آٹھويں كڑي اور دسويں معصوم ہيں ۔ آپ كي ولادت مشہور قول كي بنياد پر ۱۱ ذيقعدہ سن ۱۴۸ ہجري كو ہے جبكہ بعض لوگوں نے ماہ ذي الحجہ يا ربيع الاول بھي لكھا ہے اور بعض مورخين نے آپ كا ولادت سن ۱۵۳ ہجري لكھا ہے ۔
چونكہ مولائے كائنات (ع) كا لقب بھي ابوالحسن تھا اس لئے آپ كو ابوالحسن ثاني كہتے ہيں اور آپ كا لقب رضا اس لئے ہے كہ دوست اور دشمن سبھي آپ سے راضي تھے ۔
آپ كے اخلاق و كردار كو ابراہيم بن عباس نے اس طرح نقل كيا ہے : ميں نے كبھي نہيں ديكھا كہ حضرت نے كسي پر ادنيٰ سا ظلم كيا ہو يا كسي كہ بات كاٹ كر اپني بات كہہ دي ہو ،آپ كسي فقير كو واپس نہيں پلٹاتے تھے كسي مجلس ميں پير پھيلا كر نہيں بيٹھتے تھے ، دوسروں كے سامنے ٹيك لگا كر نہيں بيٹھتے تھے كہ اس كي كي بے احترامي نہ ہونے پائے ، كسي غلام كو برا بھلا نہيں كہتے تھے ،جس وقت دسترخوان لگتا تمام غلاموں كو اپنے ہمراہ بٹھاتے اور ان كے ساتھ كھانا نوش كرتے ،زيادہ تر بيدار رہ كر راتوں كو عبادت كيا كرتے تھے ، مستحب روزے ركھتے اور ہر مہينہ كي پہلي جمعرات ،آخري جمعرات اور پہلے بدھ كے دن كا روزہ كبھي ترك نہيں كرتے تھے ، اكثر رات كي تاريكي ميں لوگوں كي مدد كرنے كے لئے نكلتے تھے ۔
ابراہيم كہتے ہيں كہ اگر كوئي يہ گمان كرے كہ حضرت كے جيسا كوئي اور بھي ہو سكتا ہے تو اس كي تصديق
نہ كرنا ۔
حضرت كي انكساري
ايك بار آپ حمام گئے ايك شخص جو آپ كو نہيں پہچانتا تھا اس نے كہا كہ ميري پيٹھ مالش كر دو ،حضرت نے اس كے پيٹھ كي مالش شروع كر دي ۔
ابھي تھوڑي ہي ديرگزري تھي كہ لوگ آ گئے اور اس شخص كو بتايا كہ يہ امام علي بن موسيٰ الرضا ہيں ،اس نے عذرخواہي شروع كر دي ليكن حضرت نے اپنا ہاتھ نہ روكا بلكہ اپنے لطيف كلام كے ذريعہ اس كي دلجوئي فرمائي تاكہ اس كو شرمندگي كا احساس نہ ہو ۔
آداب ضيافت
ايك رات حضرت كے گھر مہمان بيٹھے تھے اتنے ميں چراغ كي روشني كم ہوگئي ۔ ايك مہمان نے چاہا كہ بڑھ كر چراغ ٹھيك كر دے ليكن حضرت نے خود چراغ ہاتھ ميں ليا اور اسے ٹھيك كرنے لگے اور فرمايا : ہم وہ ہيں جو اپنے مہمانوں سے كوئي كام نہيں ليتے ۔ يعني مہمان كا احترام فرض ہے ۔
عبادت ،تلاوت قرآن اور حضرت كے طولاني سجدے
دعبل كے بھائي ناقل ہيں كہ حضرت امام رضا عليہ السلام نے ميرے بھائي دعبل كو ايك پيراہن اور عقيق كي انگوٹھي عنايت كي اور فرمايا : اے دعبل جاؤ شہر قم تمہيں وہاں كچھ فائدہ ہوگا اور فرمايا : اس پيراہن كي حفاظت كرنا چونكہ ميں نے ايك ہزار راتوں كو اس لباس ميں ہزار ہزار ركعت نمازيں ادا كي ہيں اور ايك قرآن شروع سے آخر تك اسي لباس ميں تلاوت كيا ہے ۔
صولي نے اپني دادي سے سوال كيا كہ امام رضا عليہ السلام كے متعلق كچھ بيان كريں : انھوں نے كہا : امام رضا عليہ السلام ہميشہ اول وقت نماز ادا كرتے تھے ،جب نماز صبح سے فارغ ہوتے تو سجدے ميں سر ركھتے اور سورج نكلنے تك سر سجدے ميں ہي رہتا تھا اور تمام مدت آپ ذكر خدا ميں مشغول رہتے تھے ۔
معيار فضيلت تقويٰ ہے
بلخ كا رہنے والا ايك شخص كہتا ہے ميں خراسان كے سفر ميں حضرت كے ہمراہ تھا ،ايك دن جب دسترخوان چنا گيا تو حضرت نے اپنے تمام غلاموں كو اپنے ساتھ كھانے پر بلايا ، ميں نے كہا : ميں آپ پر قربان ہوں ، بہتر ہے انھيں دوسرے دسترخوان پر بٹھا ديں ، حضرت نے فرمايا : خاموش رہو ! سب كا خدا ايك ہے ، ہم سب كے ماں باپ ايك ہيں ،ہر انسان كي جزا اس كے عمل كے مطابق ہے ،جس كا عمل بہتر ہے وہ خداوند سے قريب ہے چاہے وہ سياہ فام غلام ہي كيوں نہ ہو ۔
اسراف و بربادي
حضرت كے غلام ياسر نے نقل كرتے ہيں : ايك دن حضرت كے غلاموں نے پھل كھايا اور آدھا پھل بغير كھائے پھينك ديا ،حضرت نے ان سے فرمايا: سبحان اللہ! كيا تمھيں ان پھلوں كي ضرورت نہيں ہے ؟ ياد ركھو روئے زمين پر ايسے لوگ بھي ہيں جو ان پھلوں كے بھي محتاج ہيں اگر نہيں كھانا ہے تو ضرورتمند لوگوں تك پہنچا دو ۔