بزرگوں کی نظر می
حضرت آیۃ اللہ العظمیٰ سیدجمال الدین ہاشمی (قدس سرہ الشریف)
اپنے زمانے کے مرجع اور حوزہ علمیہ نجف اشرف (عراق) کے بزرگ مجتہد سید جمال ادین ہاشمی گلپائگانی نے آج سے ۵۳ سال قبل ۳ جمادی الاول ۱۳۷۵ھ میں آپ کو اجازہ اجتہاد عنایت فرمایا اور اس میں وہ اس طرح سے رقمطراز ہیں :
آپ اجتہاد و استنباط کے عظیم درجہ پر فائز ہیں ، اس طویل اجازہ میں جو آج بھی موجود ہے آپ نے موصوف کو ان القاب(العالم ،العلم ،العلیم ،العلام ،الفاضل ،الکامل ،الہمام ،علم الاعلام و حجۃ الاسلام) سے یاد کیا ہے ۔
حضرت آیۃ اللہ العظمیٰ شیخ محمد علی کاظمی خراسانی (قدس سرہ الشریف)
حضرت آیۃ اللہ العظمیٰ شیخ محمد علی کاظمی خراسانی (قدس سرہ)جنہوں نے محقق نائینی مرحوم (قدس سرہ ) کے اصول فقہ کے دروس کو کتابی شکل میں جمع کیا ہے اور آپ حوزہ علمیہ نجف اشرف میں حضرت آیۃ اللہ العظمیٰ صافی (دامت برکاتہ ) کے استاد بھی تھے ،آپ کو ایک خط تحریر کیا جسمیں آپ کو علم العلم والمنارہ جیسے القاب سے یاد کیا ہے اور اس خط میں موصوف سے نجف اشرف کی طرف واپسی کی دعوت دیتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں :
آپ جیسے افراد کی جدائی اور حوزہ علمیہ کا آپ جیسے افراد سے خالی ہونا میرے لئے رنجیدگی کا باعث ہے ۔حوزہ علمیہ نجف اشرف کو آپ جیسے باصلاحیت علماء کی ضرورت ہے جو اپنی صلاحیتوں کو دین کی خدمت میں صرف کرتے ہیں ۔لہذاآپ سے گزارش ہے کہ اگر ممکن ہو تو نجف اشرف واپس آنے کی کوشش کریں ۔امید ہے کہ آپ اپنے نجف واپس آنے کے ارادے پر قائم ہوں گے۔
حضرت آیۃ اللہ العظمیٰ امام خمینی (رضوان اللہ علیہ )
حضرت آیۃ اللہ العظمیٰ امام خمینی(رہ) نے متعدد مقامات پر آپ کے علمی و فقہی نظریات اور اسی طرح اس زمانے میں پیش آنے والے مسائل میں آپ کی حسن تدبیر کی قدردانی کی ہے ۔ اسی لئے امام خمینی (رہ) نے آپ کو شورای نگہبان کا ممبر قرار دیا جو اس زمانے میں سب سے اہم ادارہ تھا ۔جو ادارہ ملکی قوانین پر نظارت کے لئے قائم کیا گیا تاکہ وہ دیکھے کہ آیا پارلیمنٹ میں پاس ہونے والے قوانین شریعت مقدس اسلام کے مطابق ہیں یا نہیں ؟
امام خمینی (رہ) نے مورخہ ۲۲/۳/۱۳۶۵ ھ ش کو شورای نگہبان کے نام ایک خط تحریر فرمایا جس میں آیۃ اللہ صافی دامت برکاتہ کے لئے اس طرح رقمطراز ہیں :
آپ لائق اور ذمہ دار فقیہ ہیں ۔اور اپنی خدمات کی اس طویل مدت میں موجودہ زمانے کے مسائل سے خاصی آشنائی رکھتے ہیں ۔
اسی طرح ایک مقام پر اس طرح فرماتے ہیں :
معظم لہ میرے نزدیک محبوب ترین افراد میں سے ہیں ۔
حضرت آیۃ اللہ جعفر سبحانی (حفظہ اللہ تعالیٰ)
حضرت آیۃ اللہ میرزا جعفر سبحانی دامت برکاتہ آیۃ اللہ العظمیٰ گلپائگانی(رہ) کی نماز جنازہ کا ذکر کرتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں :
ان کےجنازہ پر پاکیزہ ترین عالم ،یعنی بزرگ فقیہ حضرت آیۃ اللہ صافی مد ظلہ العالی نے نماز پڑھی ،وہ شخص جو اپنے قلم و زبان سے دین اسلام کی خدمت میں مصروف ہے اور معرفت کے عظیم درجہ پر فائز ہے (یذکرکم روئتہ)جسے دیکھ کر انسان یاد خدا میں غرق ہو جاتا ہے ،جن سے ملاقات انسان کے علم وفضل تقویٰ میں اضافہ کا باعث بنتی ہے ۔
سرزمین عرب کے بزرگ عالم دین
حضرت آیۃ اللہ شیخ سلمان خاقانی
حضرت آیۃ اللہ شیخ سلمان خاقانی ،آیۃ اللہ صافی (مد ظلہ العالی) سے اپنی ملاقات کا ماجرا اس طرح تحریر کرتے ہیں :
حسن اتفاق کی میں نے ایک بزرگ شخصیت کو دیکھا جن کی عمر ۷۰ سال کے قریب رہی ہوگی ،جن کو تاریخ اسلام اور اسلامی علوم کی تحقیق و جستجو نے نحیف و لاغر بنا دیا تھا ۔وہ امت مسلمہ سے تھے جن کے یہاں اصول و فروع میں اندھی تقلید کرنا جائز نہیں ہے بلکہ جہاں تک ممکن ہو تحقیق و جستجو کرنا ضروری ہے ۔ان کے بدن پر عراق و ایران کے علماء جیسا لباس تھا ۔میں نے پوچھا :آپ کا اسم گرامی ؟
فرمایا :لطف اللہ صافی ۔
میں نے کہا :یہ حسن اتفاق کہ میری آپ سے ملاقات ہو گئی۔
حضرت آیۃ اللہ العظمیٰ سید محمد رضا گلپائگانی (رحمۃ اللہ علیہ )
حضرت آیۃ اللہ العظمیٰ سید محمد رضا گلپائگانی کے ۳۲ سالہ دورۂ مرجعیت میں آپ نے تاریخی مسائل کے حل کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ آپ ان کے نزدیک عظیم مفکر اور امانتدار صلاح کار کی حیثیت رکھتے تھے ۔
خود حضرت آیۃ اللہ العظمیٰ سید محمد رضا گلپائگانی اہم ترین سیاسی اور اجتماعی امور میں آپ سے مشورہ لیا کرتے تھے اور فقہی مسائل آپ کے سامنے پیش کر کے آپ کے نظریات طلب کرتے تھے اور آپ کے نظریات کی قدردانی فرماتے تھے ۔
حضرت آیۃ اللہ العظمیٰ گلپائگانی(رہ)نے ادارۂ معجم فقہی(یہ سب سے پہلا فقہی انسائکلوپیڈیا اور اسلامی علوم کا تحقیقاتی ادارہ ہے ) کے کارکنان کو لکھے گئے ایک خط میں حضرت آیۃ اللہ العظمیٰ صافی کو بزرگ فقہاء اور عظیم علمی مقام رکھنے والے علماء میں سے قرار دیا اور اس ادارہ میں آپ کے وجود کو عظیم نعمت قرار دیا اور اس بات کی تاکید کی کہ آپ کے علمی سرمایہ سے زیادہ سے زیادہ استفادہ کیا جائے ۔
حضرت آیۃ اللہ العظمیٰ گلپائگانی(رہ) جو خود بھی علم و تقویٰ اور فقاہت کے عظیم درجے پر فائز تھے ، حضرت آیۃ اللہ صافی دامت برکاتہ کو مسلم مجہتد اور عادل سمجھتے تھے ۔