قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ واالہ : إنّما سمّي رمضان، لأنّه يحرق الذنوب ؛ اس مہینہ کا نام رمضان اس لئے رکھا گیا کہ یہ مہینہ گناہوں کو جلا دیتا ہے ۔ (شرح فروع الکافی ،ج/۴)

شہادت امام محمد تقي عليہ السلام

باغ رسالت كے اس گلزار كي عمر اگر چہ مختصر تھي ليكن اس كي رنگ و بو سارا جہان معطر گيا ۔ امام تقي عليہ السلام سے جو احاديث مروي ہيں اور جن علمي مسائل كا آپ نے جواب ديا يا جو كلمات آپ كي زبان مبارك سے ادا ہوئے اور ہم تك پہنچے ہيں وہ رہتي دنيا تك تاريخ اسلام كے صفحات كي زينت بنے رہيں گے ۔ آپ كي كل عمر صرف پچيس برس تھي جس ميں سترہ سال آپ كي امامت كے ہيں ۔
 

باغ رسالت كے اس گلزار كي عمر اگر چہ مختصر تھي ليكن اس كي رنگ و بو سارا جہان معطر گيا ۔ امام تقي عليہ السلام سے جو احاديث مروي ہيں اور جن علمي مسائل كا آپ نے جواب ديا يا جو كلمات آپ كي زبان مبارك سے ادا ہوئے اور ہم تك پہنچے ہيں وہ رہتي دنيا تك تاريخ اسلام كے صفحات كي زينت بنے رہيں گے ۔ آپ كي كل عمر صرف پچيس برس تھي جس ميں سترہ سال آپ كي امامت كے ہيں ۔
معتصم عباسي نے آپ كو مدينہ منورہ سے بغداد بلايا اور آپ ماہ محرم سن ۲۲۰ ميں وارد بغداد ہوئے ۔ معتصم آپ كي زوجہ ام الفضل كا چچا تھا اس نے مامون كے بيٹے اور ام الفضل كے ساتھ مل كر امام(ع) كو قتل كرنے كا ارادہ كيا ۔ چونكہ انھيں اس بات كا خوف تھا كہ كہيں خلافت عباسيوں سے علويوں كي جانب نہ چلي جائے اسلئے ام الفضل كو اكسايا كہ تم خليفہ كي بيٹي ہو اور تمہارا احترام ہر ايك پر واجب ہے جبكہ تمہارے شوہر محمد تقي ، علي نقي كي ماں كا تم سے زيادہ احترام كرتے ہيں ۔ معتصم اور جعفر نے ام الفضل كو اتنا اكسايا كہ اسے امام سے حسد ہونے لگا ۔ جب ان دونوں كي باتيں ام الفضل كے دل ميں اتر گئيں تو انھوں نے زہرآلود انگور ام الفضل كے پاس بھجوائے كہ انھيں حضرت امام تقي عليہ السلام كو كھلا دے ۔ اس نے انگور امام كے سامنے ركھے اور ان كي تعريف كر كے امام كو كھانے كے لئے كہا ۔ امام نے جيسے ہي وہ انگور تناول كئے زہر كا اثر سارے بدن ميں پھيل گيا اور آپ كو شديد تكليف ہونے لگي ۔ ام الفضل يہ ديكھ كر پشيمان ہوئي اور رونے لگي ليكن پشيماني كا وقت گزر چكا تھا ۔ حضرت نے اس سے فرمايا : كيوں روتي ہو؟ مجھے قتل كر كے تمہيں كچھ نہيں ملے گا ،خداوند تمہيں اس چند روزہ دنيا ميں ايسے درد ميں مبتلا كرے گا كہ كبھي اس سے نجات نہ مل سكے گي ۔
امام كو زہر دينے كے متعلق دوسري بھي روايات موجود ہيں ۔
ام الفضل سے امام عليہ السلام كے كوئي اولاد نہ تھي بلكہ آپ كي ساري اولاد سمانہ مغربيہ نامي ام ولد سے تھيں ، آپ كے ۴ بيٹے اور ۴ بيٹياں تھيں ۔
۱۔ امام علي نقي عليہ السلام
۲۔ ابو محمد موسيٰ مبرقع
۳۔ ابو احمد حسين
۴۔ ابو موسيٰ عمران
۵۔ فاطمہ
۶۔ خديجہ
۷۔ ام كلثوم
۸۔ حكيمہ
امام محمد تقي عليہ السلام كو اپني دادي فاطمہ زہرا(س) كي طرح مختصرسي عمر ميں بے حساب رنج و غم ملا ، اور دشمنوں نے اس نوراني چراغ كو اپنا نور پھيلانے نہ ديا ۔ آپ كي شہادت سن۲۲۰ھ ماہ ذيقعدہ كے آخر ميں واقع ہوئي ۔ آپ كو كاظمين ميں آپ كے دادا امام موسيٰ كاظم عليہ السلام كے پہلو ميں دفن كيا گيا جہاں آج دو شاندار گنبد چمك رہے ہيں اور لوگ دنيا كے كونے كونے سے آپ كي زيارت كو آتے ہيں ۔