آداب زیارت ۱
ہم یہاں پر چند ان آداب کا تذکرہ کریں گے جو عام طور پر ذکر نہیں کئے جاتے ہیں :
۱۔ جس کی زیارت کی جارہی ہے اس کی معرفت حاصل کرنا ، زائرین کے آداب میں سے یہ سب سے اہم ادب ہے اس کا مقصد یہ ہے کہ انسان اس صاحب قبر کو امام واجب الطاعہ اور اپنے اعمال و کردار پر ناظر سمجھتا ہو ۔
۲۔ اس مقدس مکان کی معرفت ، یعنی وہ اس بات کا یقین رکھتا ہو کہ یہ مکان بیوت اللہ میں سے ہے جن کے لئے خداوند عالم نے قرآن کریم میں بیان فرمایا ہے :
في بيوت اذن الله ان ترفع و يذكر فيها اسمه يسبح له فيها بالغدو والآصال رجال لا تلهيهم تجارة ولابيع عن ذكر الله...
ترجمہ : یہ چراغ ان گھروں میں ہے جن کے بارے میں خدا کا حکم ہے کہ ان کی بلندی کا اعتراف کیا جائے اور ان میں اس کے نام کا ذکر کیا جائے کہ ان گھروں میں صبح و شام اس کی تسبیح کرنے والے ہیں وہ مرد جنہیں کاروبار یا دیگر خرید و فروخت ذکر خدا, قیام نماز اور ادائے زکٰوۃ سے غافل نہیں کرسکتی ۔
کسی حرم کے داخل ہونے کی اجازت میں اس طرح وارد ہوا ہے : اللهم اِنّ هذه بقعة طهرتها و عقوة شرفتها و معالم زكيتها حيث اظهرت فيها أدلّة التوحيد و اشباح العرش المجيد
خداوندا! یقیناً یہ وہ جگہ ہے جسے تونے پاک بنایا ہے ، وہ در ہے جسے تونے شرف بخشا ہے ، وہ مقام ہے جسے تو نے پاک کیا ہے جس میں تونے توحید کے دلائل اور عرش مجید کے نمونوں کو ظاہر کیا ہے ۔
۳۔ بیہودہ اور بے فائدہ باتوں سے پرہیز کرے ،چونکہ یہ مقدس مکان خدا اور اس کے پاک رسول اور رسول کے اہل بیت علیھم السلام کا گھر ہے ۔ ان جگہوں پر زائر امام معصوم علیہ السلام کے حضور میں ہوتا ہے اور حجت خدا کے روبرو ہوتا ہے اس لئے ان پاک حرموں میں اسے احترام و اکرام کی از حد رعایت کرنی چاہئے ۔
۴۔ آداب زیارت میں سے ایک یہ بھی ہے کہ انسان حرم کے حدود کے باہر ہی اپنے جوتے اتار دے ۔ اس امر کا استفادہ خود قرآن مجید سے بھی ہوتا ہے کہ جب حضرت موسیٰ (ع) کوہ طور پر پہنچے تو خداوند عالم نے حکم دیا :
"فاخلع نعلیک انک بالواد المقدس طویٰٰ "
اے موسیٰ اپنی جوتیوں کو اتار دو تم طویٰ کی مقدس وادی میں ہو ۔
ائمہ معصومین علیہم السلام کے نورانی حرم طویٰ کی مقدس وادی سے کم منزلت نہیں رکھتے ہیں ۔ امیرالمومنین (ع) اور ان کی اولاد پاک کے حرم اگر طویٰ کی وادی سے برتر نہیں تو کمتر بھی نہیں ہیں ۔ اس لئے ضریح مبارک کے پاس جانے سے قبل پا برھنہ ہو جانا چاہئے ۔
جن ائمہ کی قبر پر ضریح اور بارگاہ بنائی گئی ہے وہاں اس ادب کی رعایت کی جاتی ہے بلکہ یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ بعض لوگ سواری سے اترنے کے بعد اس بارگاہ تک ننگے پاؤں جاتے ہیں اور ایک طولانی راستے کو پیادہ طے کرتے ہیں لیکن قبرستان بقیع میں مدفون چار ائمہ کے لئے ایسا نہیں ہوتا ، بلکہ وہاں لوگ جوتے پہن کر چلے جاتے ہیں اور کبھی کبھی قبر تک جوتے پہنے ہوئے چلے جاتے ہیں ۔
اس بات پر توجہ ضروری ہے کہ اگر چہ ان ائمہ کی قبور کے نزدیک قالین اور فرش نہیں ہے قبر پر ضریح بھی تعمیر نہیں ہے چونکہ ان کی ضریح کو خداناشناس وہابیوں نے ویران کردیا ، لیکن حرم کے احترام کی شرط قالین اور فرش نہیں ہے لہذا ان ائمہ (ع) کی قبروں کا بھی احترام کرنا چاہئے ۔
۵ ۔ ان مقدس حرم اور ضریح کے پاس اپنی آوازیں بلند نہ کریں اس لئے کہ یہ مقدس حرم پیغمبر(ص) کے حرم اور ان کے گھر کے مانند ہیں جن کے لئے خداوند عالم کا حکم ہے :
لا ترفعوا اصواتكم فوق صوت النبي
اپنی آوازیں پیغمبر کی آواز کے سامنے بلند نہ کرو ۔
چونکہ ائمہ علیھم السلام جگر گوشہ پیغمبر (ص) اس لئے جو حکم پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ہے وہی حکم ان ائمہ علیھم السلام کا بھی ہے ۔ چونکہ یہ ائمہ (ع) بھی نبی اکرم(ص) کی طرح حاضر و ناظر ہیں اس لئے ان کے سامنے بھی آواز بلند کرنا سوء ادب بے احترامی اور اخلاق اسلامی کے خلاف ہے ۔
اس لئے دعا اور زیارت و مناجات پڑھتے اور تلاوت کرتے وقت اپنی آوازیں بلند نہیں کرنا چاہئے ۔
۶ ۔ آداب زیارت میں سے ایک یہ ہے کہ سفر زیارت کے دوران معصیت اور خلاف شرع فعل انجام دینے سے پرہیز کرے اور واجبات پر پوری توجہ دے خاص کر اس بات کا خیال رکھے کہ واجب نماز قضا نہ ہونے پائے بلکہ ہر نماز کو اول وقت ادا کرے ۔ ائمہ (ع) کی قبر کے زائر کو یہ زیب نہیں دیتا کہ وہ بیہودہ بہانے بنا کر نماز چھوڑ دے مثلاً اس بہانے سے کہ ٹرین میں نماز پڑھنا دشوار ہے یا جہاز میں نماز نہیں پڑھی جا سکتی ، نماز کو ترک نہ کرے ۔
زیارت کے لئے نکلے تو راستے میں نا محرم کو دیکھنے ان سے گفتگو کرنے سے پرہیز کرے چونکہ اس کی وجہ سے یہ خوف رہتا ہے کہ انسان گناہ میں مبتلا ہو جائے یا بے حیائی کا شکار ہو جائے ۔
اسی سلسلے سے اس بات پر بھی توجہ ضروری ہے کہ زیارت کے لئے جاتے وقت محرم و نامحرم کا بیحد خیال رکھیں ، ایسا نہ ہوکہ ٹرین یا ہوائی جہاز یا بس کے اندر یہ حدیں باقی نہ رہیں ، چونکہ بعض ایر ہوسٹس بہت زیادہ بن سنور کر جہاز میں آتی ہیں اور بسا اوقات ان کے سر کے بال یا سر کا کچھ حصہ کھلا ہوا ہوتا ہے اور وہ مسافرین کی خدمت کرتی ہیں ۔ اگر چہ وہ مسافروں کا بیحد خیال رکھتی ہیں ۔
دوسری طرف مرد حضرات بالخصوص جوانوں کو یہ معلوم ہونا چاہئے کہ ان کے پاس کوئی بہانہ نہیں ہے کہ وہ ان عورتوں کو بار بار دیکھیں یا ان پر شہوت آمیز نظر ڈالیں یا ان سے مذاق اور گفتگو کریں ۔اسی طرح اگر مسافروں کے درمیان لا پروا اور بے تقویٰ عورتیں موجود ہوں جو بن سنور کر بیٹھتی ہیں اور خود کو دوسروں کے سامنے پیش کرتی ہوں ۔ پاکباز جوان ان سے مذاق اور گفتگو کرنے سے اجتناب کریں اور اپنے زیارتی سفر کو سفر معصیت نہ بنائیں ، ٹرینوں اور بسوں میں بھی اس کی رعایت کریں البتہ دیگر سفر میں بھی اس بات کی رعایت واجب ہے لیکن مشہد مقدس کے سفر اور دیگر ائمہ کی زیارت کے لئے سفر کا ایک خاص مقام ہے ، لہذا ان سفروں میں ایسے انحرافی کاموں سے بیحد پرہیز کرے ۔
چند نا محرم ایک گاڑی میں سفر نہ کریں چاہے وہ ایک ہی گھر کے کیوں نہ ہوں ۔
شہر قم کے ایک متدین دوست کہتے ہیں : " میرا داماد اپنی بیوی کے ہمراہ اور اس کا ایک دوست بھی اپنی بیوی کے ہمراہ ایک گاڑی میں مشہد زیارت کے لئے گئے ، جب میری بیٹی گھر واپس آئی اور مجھ سے ملنے آئی تو میں نے ملاقات سے انکار کر دیا کہ کیوں تم ایک نامحرم کے ہمراہ ایک گاڑی میں گئی ، اس نے اس بات پر ندامت کا اظہار کیا تو ہم نے اسے ملاقات کی اجازت دی ۔
ہم یہاں پر اسلامی معاشرے کے مرد ،عورت، لڑکے اور لڑکیوں کے ذہنوں کو ایک حدیث کی طرف متوجہ کرنا چاہتے ہیں اور یہ چاہتے ہیں کہ امام رضا علیہ السلام کی حرمت کا پاس رکھتے ہوئے اس حدیث کے مضمون کو ذہن نشین کرلیں ۔
پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :
باعدوا بين انفاس الرجال و النساء فان كانت المعاينة و اللقاء كان الداء الذي لا دواء
عورتوں اور مردوں کی سانسوں کے درمیان فاصلہ رکھو چونکہ اگر یہ ایک دوسرے کو دیکھتے رہیں اور ملتے رہیں تو ایسے مرض میں مبتلا ہوں گے جس کی کوئی دوا نہیں ہے ۔
اسلامی امت اپنے بیٹوں اور بیٹیوں کا خاص خیال رکھے کہیں ایسا نہ ہو کہ ثواب کے قصد سے زیارت کو جائیں لیکن مذہبی آداب اور الٰہی احکام کی رعایت نہ کرنے کی بنیاد پر گناہوں کا بار اپنے ہمراہ لے کر واپس آئیں اور خداوند کی قربت کے بجائے ولی خدا اور خدا کی کاملترین حجت کے دل کو رنجیدہ کرنے کے اسباب فراھم کریں اور ان کی لعنت کے مستحق قرار پائیں ۔
میری مسلمان لڑکیوں سے یہ درخواست ہے کہ مشہد کی سڑکوں پر یا حرم مطہر کے صحن میں بن سنور کے ، فیشنی لباس پہن کر نہ آئیں ، ایسا نہ ہو کہ ان کاموں کی وجہ سے وہ امام رضا علیہ السلام کی لعنت کی مستحق قرار پائیں ۔ نعوذ باللہ من ذلک
وہ مرد جو اپنی بیویوں کے ہمراہ زیارت کے لئے آتے ہیں خاص کر وہ جوان جن کی نئی نئی شادیاں ہوئی ہیں وہ بھی غیرت اسلامی کی رعایت کریں ،اپنی بیویں کو بال کھلا سڑکوں پر نہ گھمائیں کہیں ایسا نہ ہو کہ ان کے مقدر میں یہ سفر برا بن جائے اور خدا نخواستہ کسی حادثے کا شکار ہو کر ایسی بیماری میں مبتلا ہو جائیں جو لا علاج ہو ، خداوند عالم سے دعا ہے کہ ان کا یہ زیارتی سفر ایسا نہ ہو ۔
۷۔
سفر زیارت کے آداب میں سے ایک یہ ہے کہ راستے میں لوگوں کا مال ضائع نہ کرے ، باغوں میں چوری نہ کرے بلکہ بغیر اجازت کے دوسرے کے اموال میں تصرف نہ کرے ؛ ایسے کاموں سے ساتھ ہونے والی زیارت ہرگز قبول نہیں ہوگی اور اگر خدانخواستہ کسی کا مال ضائع ہو جائے تو کوشش کرے کہ اس کا جبران کرے ۔
سن ۱۴۲۸ھ ،رجب کے مہینہ میں مشہد مقدس میں ایک شخص میرے قریب آیا اور کہا ! جناب ایک مسئلہ ہے ، میں نے کہا پوچھو ، اس نے بتایا کہ " میں راستے میں اپنی گاڑی سے آرہا تھا میرے بچوں نے ایک باغ سے کچھ انگور اور ٹماٹر توڑ لئے اور ان میں سے کچھ پھل ابھی بھی میرے ہمراہ ہیں ، میں کیا کروں ؟
میں نے جواب دیا : باغ کے مالک کا پتہ لگاؤ ، اور جتنا اس کا نقصان کیا ہے اس کا جبران کرو یا اس کو راضی کرو ۔
اس نے جواب دیا : یہ ممکن نہیں ہے ؛ چونکہ یہ شہر سمنان۱ کی بات ہے ، میں نے کہا کہ پھر اس پھل کی قیمت اس باغ کے مالک کی جانب سے صدقہ دیدو ۔
اس نے پوچھا : اور جو پھل بچے ہوئے ہیں ان کا کیا کروں ؟
میں نے کہا : اسے بھی باغ کے مالک کی طرف سے کسی فقیر کو دیدو ۔۱
بہر حال ہر واجب کا ترک کرنا یا حرام کا انجام دینا زیارت کے منافی ہے اور زیارت قبول ہونے کی راہ میں مانع ہے جو زائر کو امام رضا علیہ السلام یا جس کی زیارت کے لئے گیا ہے اس سے نزدیک نہیں ہونے دیتا ۔
۸۔ تا حد امکان جب زیارت کے لئے نکلے تو فقط زیارت کا قصد ہو کسی دوسرے امر کو اپنے مقصد میں داخل نہ کرے بلکہ اپنے سفر کے مقصد کو مادی نہ بنائے ۔
ہمارے ایک محترم دوست تھے ، ایک بار جب ہم مشہد مقدس کی زیارت کے لئے وہاں گئے تو میرے پاس ایک کتاب تھی جسے شائع کرنا تھا ، یہ کتاب انھیں دینی تھی اس لئے ہم نے ان کو فون کیا اور کتاب دینے کے لئے ان سے کہا کہ حرم میں آجائیں وہیں پر ملاقات ہو جائے گی اور کتاب بھی لے لیں انھوں نے جواب دیا : " میں حرم میں زیارت کے علاوہ کسی اور قصد سے نہیں جاتا ہوں،صرف زیارت کی غرض سے حرم جاتا ہوں "
۹۔ اگر ازدحام کی وجہ سے ضریح کے نزدیک نہ پہنچ پائے تو رنجیدہ خاطر نہ ہو ، بلکہ خدا کا شکر ادا کرے کہ اس کے دل میں امام رضا علیہ السلام کی اتنی محبت ہے ، خداوند اسے ضریح چومنے اور اس کے نزدیک جانے کا بھی ثواب عطا کرے گا ۔
۱۰۔ عبادت اور زیارت کی جگہ کے متعلق بحث و جدال نہ کرے بلکہ ایثار کرے اور خود دور جا کر زیارت پڑھ لے اور ادب و احترام کی رعایت کرے اس طرح خداوند عالم اسے زیادہ اجر سے نوازے گا ، اور نماز و زیارت میں کسی کے لئے باعث زحمت نہ ہو بلکہ آہستہ زیارت پڑھے ۔
۱۱۔ زائر کے لئے یہ لازمی ادب ہے کہ زیارتی شہر جیسے مشہد ،نجف کربلا وغیرہ کے مقامی لوگوں کا ادب و احترام کرے ، ایسا نہ ہو کہ وہ زائرین کے ناشایستہ برتاؤ سے تنگ آجائیں یا کسی زائر کے لئے ان کے ذہن میں کوئی غلط تصور پیدا ہو بلکہ ان کے ساتھ ایسا برتاؤ کریں کہ وہ ہمیشہ زائرین کا ذکر خیر کریں ، اس بات کی طرف متوجہ رہنا چاہئے کہ مثلاً مشہد کے باشندے ہمارے محبوب امام رضا علیہ السلام کے مجاور ہیں اس لئے ان کا احترام بھی لازم ہے ، البتہ مجاورین کا بھی فرض ہے کہ وہ زائرین کے ساتھ اچھا برتاؤ کریں ۔
یقیناً اگر امام رضا علیہ السلام یا دیگر ائمہ علیھم السلام کے قبور کی زیارت کرنے والا کوشش کرے اور ان آداب و شرائط کو اپنے اندر ایجاد کر سکے تو اس بات کی امید ہے کہ صرف ایک مختصر زیارت زائر کے اندر چشمگیر اثر پیدا کرے گی اور حضرت امام رضا علیہ السلام اور دیگر ائمہ کی لطف و عنایات زائر کے شامل حال ہونگی اور اس کی زندگی کے سخت ترین مسائل حل ہو جائیں گے اور رحمت الٰہی کے دروازے اس کے لئے کھول دئے جائیں گے جس کی لذت کا احساس ہمیشہ زائر کرتا رہے گا اور ہمیشہ خود کو خدائے رحمان و رحیم اور اولیائے الٰہی کے ہمراہ سمجھے گا اور یہ مقدس احساس انسانی زندگی کے لئے بہترین احساس ہے جس کے ذریعہ انسان اپنی پر معنیٰ زندگی سے بہترین لذت حاصل کر سکتا ہے ۔
۱۔ شہر سمنان مشھد سے ۸۰۰کلومیٹر کے فاصلے پر ہے
اقتباس از کتاب شوق دیدار ،تالیف آیۃ اللہ کریمی جہرمی