قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ واالہ : إنّما سمّي رمضان، لأنّه يحرق الذنوب ؛ اس مہینہ کا نام رمضان اس لئے رکھا گیا کہ یہ مہینہ گناہوں کو جلا دیتا ہے ۔ (شرح فروع الکافی ،ج/۴)

تبليغ انبياءعليہم السلام كا كام ہے اسلئے اس سے بڑھ كر كوئي عبادت نہيں ہے : آيۃ اللہ العطميٰ صافي گلپائگاني

حضرت آيۃ اللہ العظميٰ صافي گلپائگاني نے عشرہ اربعين كے آغاز ميں جبكہ طلاب و افاضل تبليغ كے لئے جانے والے ہيں ، اپنے آخري درس خارج ميں مبلغين كو وعظ و نصيحت كرتے ہوئے فرمايا : جو طلاب تبليغ دين كي صلاحيت ركھتے ہيں ان سے ميري گزارش ہے كہ وہ اس سنت كي اہميت سمجھتے ہوئے لوگوں كي ہدايت اور شيعوں كو اہلبيت(ع) كے نوراني معارف كي تعليم دينے كے لئے ضرور جائيں ۔
آپ نے فرمايا : بعض دورافتادہ علاقے ايسے ہيں جن كي حوزہ علميہ تك رسائي نہيں ہے يا وہ معيشتي مشكلات كي وجہ سے ديني پروگرام منعقد كرنے سے قاصر ہيں ،طلاب محترم خلوص نيت كے ساتھ ايسے محروم علاقوں ميں جائيں اور وہاں رہنے والوں كو احكام دين اور احاديث معصومين (ع) سے آشنا كريں ۔

مرجع عالم تشيع نے اس بات كي تاكيد كي كہ تبليغ انبياء (ع) كا كام ہے ، دين اسلام كے سب سے پہلے مبلغ پيغمبر اكرم (ص) ہيں جن كے لئے خداوند عالم فرماتا ہے : " رسلاً مبشرين و منذرين" لہذا طلاب كرام بشارت دينے كے ساتھ ساتھ لوگوں كو عذاب الٰہي سے ڈرانے كا بھي فريضہ انجام ديں ۔
آيۃ اللہ العظميٰ صافي نے پيغمبر اكرم صلي اللہ عليہ وآلہ و سلم كے اس قول كہ جس ميں علي عليہ السلام كو مخاطب كر كے پيغمبر(ص) نے فرمايا : " اگر ايك آدمي تمہارے ہاتھوں سے ہدايت پا جائے تو تمام ان چيزوں سے بہتر ہے جن پر سورج كي روشني پڑتي ہے " كي طرف اشارہ كرتے ہوئے فرمايا : تبليغ سے بڑي كوئي عبادت نہيں ہے ۔
حضرت آيۃ اللہ صافي نے اپنے تجربات اور دوران جواني ميں محروم علاقوں ميں تبليغ كے دوران پيش آنے والے واقعات كو بيان كرتے ہوئے فرمايا : مبلغ اور واعظ كے لئے دو سرمايہ كا ہونا بہت اہميت ركھتا ہے اگر يہ دونوں سرمايہ اس كے پاس ہوں تو بہترين تبليغ كر سكتا ہے اور اس كي تبليغ لوگوں كے دلوں پر اثرانداز ہوگي ۔ ايك قرآني آيات اور دوسرے معصومين عليھم السلام كي نوراني احاديث ، اگر مبلغ كو توحيد ، معاد ، اخلاقي نصيحت كے متعلق آيات حفظ ہوں اور ان موضوعات پر احاديث بھي ياد ہوں اور انھيں لوگوں كو سنائے تو وہ بہترين اور كامياب مبلغ بن سكتا ہے ۔
معظم لہ نے اس بات كے پيش نظر كہ صراط مستقيم اہلبيت عليہم السلام ہيں ، فرمايا : لوگوں كو قرآني دستور اور احكام كي جانب متوجہ كريں ، ہمارے معاشرے كو قرآني معاشرہ ہونا چاہئے جس ميں ہر جگہ نور ، علم ، تقويٰ اور حكمت موجود ہو ، ايسا معاشرہ جو ظلم و ستم ،گناہ ،معصيت ،كدورت اور نفاق سے پاك ہو ۔
آخر سخن ميں آپ نے مبلغين سے يہ تقاضا كيا كہ لوگوں كو زيادہ سے زيادہ قطب عالم امكان ،حضرت بقيۃ اللہ الاعظم امام زمانہ ارواحنا لہ الفدا كي جانب متوجہ كريں اور آنحضرت كے در سے وابستہ رہيں اور اس سرچشمہ فيض سے فيضياب ہوں ۔ پھر انھوں نے مبلغين كے لئے اس عظيم امر ميں كاميابي كي دعا كي ۔