منتخب الاثر فی الامام الثانی عشر(جمال منتظر)
حضرت آیۃ اللہ العظمیٰ صافی گلپائگانی جن کا شمار آج حوزہ علمیہ قم کے بزرگ مراجع میں سے ہوتا ہے انھوں نے پچاس سال قبل محدود امکانات کے باوجود امام زمانہ (عج) کے متعلق ایک ایسی عظیم کتاب تالیف کی جو اپنے موضوع اور روش تالیف کے اعتبار سے بے مثال ہے ۔
اس کتاب کی روش یہ ہے کہ امام زمانہ(عج) کے متعلق جو احادیث کتابوں میں موجود ہیں انھیں موضوعات کے اعتبار سے الگ الگ ابواب میں ذکر کیا گیا ہے ۔اس کتاب میں تقریباً سو ابواب ہیں ہر باب میں وارد ہونے سے پہلے اس باب کے متعلق ایک حدیث کو مکمل طور نقل کر کے اس کی سند اور دلالت کے متعلق سیر حاصل بحث کرتے ہیں اور دیگر احادیث میں جو مطالب اس باب سے متعلق ذکر ہوئے ہیں ان کی جانب اشارہ کرتے ہوئے ان کا حوالہ دیتے ہیں اور اس بات کی جانب بھی اشارہ کر دیتے ہیں کہ یہ حدیث فلاں باب میں مکمل طور پر ذکر کی گئی ہے ۔
اپنی تالیف سے لے کر آج تک یہ کتاب محققین اور علماء کی توجہ کا مرکز رہی ہے اور ہر زمانے میں صاحبان علم اس کتاب سے استفادہ کرتے رہے ہیں ۔
اس کتاب کی تالیف پر اس زمانے کے علماء و بزرگان نے مولف محترم کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کتاب کی مختلف زاویوں سے تعریف و تمجید کی ہے ۔
علامہ تھرانی (رہ) نے اپنی کتاب الذریعہ الیٰ تصانیف الشیعہ میں اس کتاب کا ذکر کیا ہے اور مولف محترم کو ایک خط لکھ کر اس بات کا اظہار کیا ہے کہ آج تک میں نے اس موضوع پر اس طرح کی جامع کتاب نہیں دیکھی تھی ۔
حضرت آیۃ اللہ العظمیٰ جعفر سبحانی مد ظلہ العالی فرماتے ہیں کہ اس کتاب کی تعریف صرف شیعہ علماء ہی نے نہیں بلکہ بعض علمائے اہل سنت اور بہت سے مستشرقین نے بھی کی ہے ۔
مصر کے جید عالم دین استاد ابو ریہ نے علامہ سید مرتضیٰ رضوی کے سامنے اس کتاب کی تعریف کی ہے ۔
یہ کتاب عربی زبان میں تالیف کی گئی ہے اور متعدد مرتبہ ایران اور لبنان میں زیور طبع سے آراستہ ہو چکی ہے ۔ چھ سال قبل حجۃ الاسلام والمسلمین جناب مولانا نثار احمد زین پوری صاحب نے اس کتاب کو اردو زبان میں ترجمہ کیا اور سن ۲۰۰۴ عیسوی میں یہ کتاب "جمال منتظر" کے نام سے موسسہ امام المنتظر(عج) کی جانب سے شائع ہوئی ۔
اس کتاب کے ابواب و فصول اس طرح سے ہیں :
پہلی فصل : اس فصل میں ان احادیث کی جانب اشارہ ہے جن میں صراحت سے اماموں کی تعداد بیان کی گئی ہے کہ ائمہ (ع) بنی اسرائیل کے نقباء کے برابر ، بارہ ہیں جن میں سے پہلے مولائے کائنات علیہ السلام اور آخری امام حضرت مہدی (عج) ہیں ۔
اس فصل کو مولف نے ۸ ابواب پر مشتمل قرار دیا ہے اور ان ابواب کے ذیل میں ۲۴۳ احادیث کو مکمل طور پر ذکر کیا ہے اور ۶۶۳ احادیث کا حوالہ دیا ہے جن میں یہ تذکرہ موجود ہے ۔
دوسری فصل: اس فصل میں ان احادیث کو ذکر کیا گیا ہے جن میں غیب سے آنے والے آخری مصلح کی بشارت دی گئی ہے اور یہ بیان کیا گیا ہے کہ وہ آخری مصلح پیغمبر کی عترت سے ہوگا علی و فاطمہ علیہما السلام کی نسل سے ہوگا، امام حسین علیہ السلام کی اولاد میں سے ہوگا اور امام حسن عسکری علیہ السلام کے صلب سے ہوگا ۔
اس فصل میں ۴۹ ابواب ہیں جن میں ۲۵۲ احادیث کے مکمل متن ذکر کئے گئے ہیں اور ۴۰۷۶ ان احادیث کا حوالہ دیا گیا ہے جن میں یہ تذکرہ پایا جاتا ہے ۔
تیسری فصل : اس فصل میں حضرت حجت عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کی تاریخ ولادت ، ان کے حالات زندگی ، حضرت ولی عصر(عج) کے معجزات اور ان خوش قسمت افراد کی داستان ذکر کی گئی ہے جن کو امام عسکری علیہ السلام کی حیات طیبہ ہی میں امام زمانہ (عج) کی خدمت میں حاضر ہونے کا شرف حاصل ہوا ۔
یہ فصل تین ابواب پر مشتمل ہے جن میں ۳۴ مکمل احادیث ذکر کی گئی ہیں اور ۱۰۸ احادیث کا حوالہ دیا گیا ہے ۔
چوتھی فصل : حضرت بقیۃ اللہ ارواحنا فداہ کے وہ معجزات بیان کئے گئے ہیں جو غیبت صغریٰ میں واقع ہوئے ہیں اسی طرح اس فصل میں نواب اربعہ کی سوانح حیات اور ان لوگوں کا ذکر کیا گیا ہے جو امام حسن عسکری علیہ السلام کی وفات کے بعد غیبت صغریٰ کے دوران امام زمانہ(عج) کی خدمت میں شرفیاب ہوئے ۔
اس فصل میں بھی ۳ ابواب ہیں اور مجموعی طور پر ۵۳ احادیث ذکر کی گئی ہیں اور ۲۱ دیگر احادیث کا حوالہ دیا گیا ہے ۔
پانچویں فصل : اس فصل میں حضرت بقیۃ اللہ الاعظم امام زمانہ(عج) کے زمانہ غیبت کبریٰ کے معجزات رقم ہیں اور ان سعادتمند افراد کا تذکرہ ہے جو غیبت کبریٰ میں امام زمانہ(عج) کی ملاقات سے شرفیاب ہوئے ہیں ۔
اس فصل میں دو باب ہیں جن میں ۱۶ احادیث کا ذکر کیا گیا ہے اور ۹ احادیث کا حوالہ دیا گیا ۔
چھٹی فصل : اس فصل میں کیفیت ظہور ،علامات ظہور اور ظہور امام (ع) کے قبل ظاہر ہونے والے فتنوں کا ذکر کیا گیا ہے ۔ سفیانی اور دجال کا خروج ، آسمانی ندا ، آنحضرت کی بیعت کرنے کی کیفیت یہ ذکر کیا گیا ہے کہ حضرت کے ظہور کا وقت معین کرنا ممنوع ہے ۔
اس فصل میں ۱۱ ابواب ہیں جن میں ۱۲۸ احادیث کا تذکرہ کیا گیا ہے اور ۹۲ احادیث کا حوالہ موجود ہے ۔
ساتویں فصل : اس فصل میں بے مثال فتوحات ، زمین کے اندر چھپے ہوئے خزانوں کا ظاہر ہونے، چرخ چہارم سے حضرت عیسیٰ (ع) کا نزول ،دجال کا قتل ، لشکر سفیانی سے جنگ ، عقلوں کے کمال تک پہنچنے اور زمین کے عدل و انصاف سے بھر جانے کا تذکرہ ہے ۔
اس فصل میں ۱۲ ابواب ہیں جن میں مجموعاً ۳۷ احادیث کا ذکر ہے اور ۲۰۹ احادیث کا حوالہ دیا گیا ہے ۔
آٹوھیں فصل : اس فصل میں حضرت کے ۳۱۳ با وفا اصحاب کے صفات ، ان کے عزم و ہمت کا ذکر ہے ۔
اس فصل میں دو باب ہیں جن میں ۹احادیث کا ذکر کیا گیا ہے اور ۱۰ دیگر احادیث کا حوالہ دیا گیا ہے ۔
نویں فصل : آنحضرت کے حکومت کی مدت ، تبلیغ کا طریقہ کار ،سیرت ، خوراک و پوشاک اور حضرت کی روش زندگی کا ذکر اس فصل میں ہے ، اس فصل میں ۳ باب ہیں جن میں ۷ احادیث ذکر کی گئی ہیں اور ۲۲ احادیث کا حوالہ دیا گیا ہے ۔
دسویں فصل : اس میں انتظار فرج ، زمانہ غیبت میں شیعوں کی ذمہ داری ، امام کے حضور میں شرفیابی کی فضیلت ،آنحضرت پر ایمان لا کر ان کی پیروی کرنا ،انکار کرنے کی حرمت ، آنحضرت کی فرمانبرداری کی کیفیت اور بعض ان دعاؤں کا ذکر ہے جو امام زمانہ(عج) کی جانب سے صادر ہوئی ہیں ۔
اس فصل میں ۷ ابواب ہیں جن میں ۵۱ حدیث کو مکمل ذکر کیا گیا ہے اور ۷۷ احادیث کا حوالہ دیا گیا ہے ۔
اس طرح سے اس کتاب کے فصول کی تعداد ۱۰، ابواب کی تعداد ۱۰۰ اور اس میں ذکر ہونے والی احادیث کی تعداد ۸۳۰، ہے اور جن احادیث کا حوالہ دیا گیا ہے ان کی تعداد ۵۳۸۷ ہے اور جن احادیث کے بعض حصے ذکر ہوئے ہیں ان کی تعداد ۶۲۱۷ ہے ۔