سلف صالح پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (امام جعفر صادق علیہ السلام )
مرحوم راوندی اپنی کتاب خرائج و جرائح میں لکھتے ہیں :
ایک مرتبہ امام محمد باقر علیہ السلام اپنے فرزند امام جعفر صادق علیہ السلام کے ہمراہ حج بیت اللہ کے ارادے سے مکہ گئے ، مسجد الحرام میں کعبہ کے نزدیک بیٹھے ہوئے تھے اتنے میں ایک شخص آیا اور کہنے لگا : میں ایک سوال کرنا چاہتا ہوں ۔
امام باقر علیہ السلام نے فرمایا : میرے فرزند سے دریافت کر لو ۔
اس نے امام صادق علیہ السلام سے دریافت کیا ۔
حضرت نے فرمایا : جو سوال ہو پوچھو ۔
اس نے سوال کیا : جو شخص کسی گناہ کا مرتکب ہوا ہو اس کا وظیفہ کیا ہے ؟
حضرت نے فرمایا : کیا اس نے ماہ مبارک رمضان میں عمداً روزہ توڑا ہے ؟
جواب دیا : نہیں ! اس سے بڑا گناہ ہے ۔
حضرت نے پوچھا : کیا اس نے ماہ رمضان میں زنا کیا ہے ؟
جواب دیا : فرزند رسول ! اس سے بڑا گناہ انجام دیا ہے ۔
حضرت نے دریافت کیا : کیا کسی بے گناہ کو قتل کیا ہے ؟
جواب دیا : اس سے بھی بڑا گناہ ہے ۔
اس کے بعد امام صادق علیہ السلام نے فرمایا : اگر وہ گناہگار امیرالمومنین علیہ السلام کے شیعوں میں سے ہو تو اسے چاہئے کہ خانہ خدا کی زیارت کو جائے اور وہاں پر توبہ کرے اور یہ قسم کھائے کہ پھر ایسا گناہ انجام نہیں دے گا ۔ لیکن اگر وہ گناہگار اہلبیت(ع) کے مخالفین اور معاندین میں سے ہو تو اس کی توبہ قبول نہیں ہے ۔
اس شخص نے کہا : خداوند عالم فرزندان حضرت زہرا(س) پر رحمت نازل فرمائے ۔ میں نے یہی سوال رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کیا تھا تو آنحضرت نے بھی یہی جواب دیا تھا ۔
پھر وہ شخص چلا گیا ۔
امام محمد باقر علیہ السلام نے اپنے فرزند سے فرمایا : یہ حضرت خضر علیہ السلام تھے جو تمہیں لوگوں کے سامنے پہچنوانا چاہتے تھے ۔ (بحار الانوار ،ج/۴۷،ص/۲۱ حدیث ۲۰)
اقتباس : چھل داستان و چھل حدیث از امام جعفر صادق علیہ السلام