قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ واالہ : إنّما سمّي رمضان، لأنّه يحرق الذنوب ؛ اس مہینہ کا نام رمضان اس لئے رکھا گیا کہ یہ مہینہ گناہوں کو جلا دیتا ہے ۔ (شرح فروع الکافی ،ج/۴)

دين سے دفاع كي راہ ميں كسي سے ڈرنا نہيں چاہئے : حضرت آيۃ اللہ العظميٰ صافي

حوزہ علميہ كے بعض طلاب نے شنبہ كو بعد از ظہر مشہد ميں حضرت آيۃ اللہ العظميٰ صافي سے ان كي قيامگاہ پر ملاقات كي ۔
آيۃ اللہ العظميٰ صافي نے اس ملاقات كے دوران حوزہ علميہ كو شيعي اعتقاد كا پاسدار بتاتے ہوئے فرمايا : آج حوزات علميہ كے وجود كي بركت سے شيعہ معارف پوري دنيا ميں پھيل رہے ہيں ، ايسے وقت ميں طلاب علوم ديني كو اپنا سارا وقت اور اپني ساري قوت امر اہلبيت عليہم السلام كے احيا اور ان معارف كي پيغام رساني ميں صرف كرني چاہئے ۔
معظم لہ نے آج كے مواصلاتي نظام كي سہولتوں كے پيش نظر حوزہ علميہ كي ذمہ داري كو سنگين بتاتے ہوئے فرمايا : آج طلاب كو شبہات اور باطل عقائد سے آشنا ہونا چاہئے اور ماہر اساتذہ سے ان كے جوابات كو معلوم كرنا چاہئے تاكہ جو شبہات انٹرنيٹ اور سيٹلائٹ چينلوں پر پيش كئے جاتے ہيں ، ان كا مقابلہ كر سكيں اور ان باطل افكار كا علمي جواب دنيا كے سامنے پيش كر سكيں ۔
مرجع عاليقدر نے طلاب علوم دين كو ولي عصر امام زمانہ(عج) كا معنوي فرزند بتايا اور معاشرے ميں موجود بعض غير ديني اعمال و كردار كي طرف اشارہ كرتے ہوئے فرمايا : اگر ہم حوزات علميہ كے حقيقي مالك كي خوشي كے اسباب فراہم كرنا چاہتے ہيں تو ہميں ان غير ديني اعمال و كردار كا مقابلہ كرنا ہوگا تاكہ دين اس ملك ميں حاكم ہو سكے اور اپنے صحيح راستے سے منحرف نہ ہونے پائے ۔
آيۃ اللہ العظميٰ صافي نے اس بات كي تاكيد كرتے ہوئے كہ دين كي حفاظت كي راہ ميں كسي فرد يا گروہ سے ڈرنے كي كوئي ضرورت نہيں ہے ، فرمايا : اسلام كے حدود اور اسلامي شناخت كي پاسداري ميں كسي سے مت ڈريں بلكہ امام زمانہ (عج) كي خوشنودي كو مد نظر ركھيں اور اسي كو اپنا نصب العين بنائيں ۔
معظم لہ نے آخر سخن ميں طلاب كو اس بات كي تاكيد كي كہ مشہد مقدس ميں امام رضا عليہ السلام كے جوار ميں قيام كي فرصت كو غنيمت جانتے ہوئے اپني معنوي اور روحاني رشد و نمو كے لئے اس فرصت سے بہترين استفادہ كريں ۔