مادران قرآني نامي اجتماع كے نام آيۃ اللہ العظميٰ صافي كا پيغام
بسم اللہ الرحمٰن الرحيم
السلام علي اماء الله الصالحات اللاتي وصفهن الله تعالي في القرآن الكريم باشرف الاوصاف و اعلي المراتب و الكمالات المسلمات المؤمنات الذاكرات الامهات الخاشعات اللاتي اعدالله لهن مغفرة و اجراً عظيماً
سلام ہو قرآني ماؤں پر ، وہ مائيں جو خود بھي قرآني تربيت سے سے آراستہ ہيں اور اپني گود ميں قرآني بچوں كي تربيت كر رہي ہيں ۔ وہ مائيں جن ميں سب سے پيش قدم جناب خديجہ سلام اللہ عليھا ہيں جنہيں سيدہ نساء العالمين فاطمہ زہرا(س) اور گيارہ اماموں كي ماں بننے كا شرف حاصل ہے ۔ شہداء كي وہ مائيں جو آج تك اسلام ميں ستاروں كي طرح درخشاں ہيں جن پر تمام عورتيں بلكہ مرد بھي فخر كيا كرتے ہيں اور ان كي عظمت و مقام پر رشك كيا كرتے ہيں ۔ جناب زينب سلام اللہ عليھا ،جناب ابو طالب اور جعفر طيار كے خاندان كے دو شہيدوں كي ماں ، حضرت ام البنين ، جناب عباس علمدار كي ماں ، حضرت قاسم كي ماں ، حضرت علي اكبر و حضرت علي اصغر كي ماں ، وہب كلبي كي ماں اور اہلبيت عليہم السلام اور ان كے شيعوں كي مائيں ، سب پر سلام ہو ۔
يقيناً ! ہم سب كو قرآني ہونا چاہئے ۔ عالم و جاہل ، مرد و عورت سبھي كو قرآني بننا چاہئے ۔
قرآني مائيں يعني قرآني خواتين ۔
قرآن مجيد ميں جہاں بھي كوئي عظيم بشري فريضہ كا اعلان كيا جاتا ہے وہاں خواتين كو بھي مردوں كے ساتھ مخاطب قرار ديا جاتا ہے ۔ جہاں بھي حقيقي فضائل كي بات آتي ہے جيسے " هدي للمتقين" ، " و ان اكرمكم عندالله اتقاكم" ، اور " لآيات لاولي الالباب" ان آيات ميں مرد اور عورتيں سب مراد ہيں ۔
قرآني مائيں يعني وہ مائيں جن كے بچے اسلام اور دين كي نصرت كي راہ ميں شہادت پر فائز ہوئے جنہوں نے قرآني تربيت اور قرآني سنت كي حفاظت كو اپنا شعار اور افتخار بنايا ۔ آج جب كہ ساري دنيا ميں خواتين كو مغربي تمدن اور دين سے دوري كي طرف دعوت دي جا رہي ہے تو ان كي ذمہ دارياں بھي سنگين ہو گئي ہيں ، قرآني سنتوں كي حفاظت ان كے ذمہ ہے ۔ اسلامي شناخت پر ان كي استقامت اور ان كا بعض پروگراموں ميں شركت نہ كرنا قرآني تعليمات اور قرآني ہدايت كي ترويج كے لئے بہت ہي اہم اقدام ہوگا ۔
اس اجتماع كا محور " دين ميں استقامت " ہونا چاہئے اور قرآن كا يہ پيغام " إِنَّ الَّذِينَ قَالُوا رَبُّنَا اللَّهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا " بيشك جن لوگوں نے اللہ كو اپنا رب كہا اور اسي پر جمے رہے(سورہ احقاف آيت/۱۳)، دين كي نصرت ، حجاب اور عفت كے مسئلے پر پايداري اور استقامت ، امور خانہ داري كو عبادت اور اپنے لئے باعث فخر سمجھنا، بچوں كي اچھي تربيت ، نامحرموں كے مجمع سے الگ رہنا ، يہ سب اس اجتماع كے پيغامات ہيں ۔
قرآني پيغام
فَلَا تَخْضَعْنَ بِالْقَوْلِ فَيَطْمَعَ الَّذِي فِي قَلْبِهِ مَرَضٌ (سورہ احزاب ،آيت ۳۲)
ترجمہ : كسي آدمي سے لگي لپٹي بات نہ كرنا كہ جس كے دل ميں بيماري ہو اسے لالچ پيدا ہوجائے ۔
وَإِذَا سَأَلْتُمُوهُنَّ مَتَاعًا فَاسْأَلُوهُنَّ مِن وَرَاء حِجَابٍ ذَلِكُمْ أَطْهَرُ لِقُلُوبِكُمْ وَقُلُوبِهِنَّ (سورہ احزاب ،آيت/۵۳)
جب ازواج پيغمبر سے كسي چيز كا سوال كرو تو پردہ كے پيچھے سے سوال كرو كہ يہ بات تمہارے اور ان كے دونوں كے دلوں كے لئے زيادہ پاكيزہ ہے۔
وَلَا يَضْرِبْنَ بِأَرْجُلِهِنَّ
خبردار اپنے پاؤں پٹك كر نہ چليں كہ جس زينت كو چھپائے ہوئے ہيں اس كا اظہار ہو جائے ۔
يہ وہ عناوين ہيں كہ جس كي ترويج اور اس كي حفاظت قرآني خواتين كا وظيفہ ہے حتيٰ اس طرح كے اجتماعات كا انعقاد بھي اس بات كا باعث نہ بنے كہ خواتين بڑے اجتماعات ميں شريك ہوں ۔
آپ كي اجازت سے ميں ايك لفظ كہہ كر اپني ذمہ داري ادا كر دوں كہ قرآن كريم ، احاديث شريفہ اور سيرت ائمہ اطہار عليہم السلام ميں خواتين كي تمام فضيلت ان كے چہرہ چھپانے ميں ہے ، اگر چہرہ كا پردہ واجب نہ بھي ہو تو كم سے كم بہتر تو ہے جيسا كہ حضرت فاطمہ زہرا(س) نے فرمايا ہے ۔
خداوند ہماري خواتين اور مردوں كو اسلامي شخصيت كي حفاظت اور قرآني تہذيب كي پاسداري ميں ثابت قدم ركھ اور قرآني ماؤں كو قرآن مجيد كے ساتھ محشور فرما ۔
والسلام عليكم ورحمۃ اللہ وبركاتہ
رمضان المبارك ۱۴۳۱
لطف اللہ صافي