امام صادق علیہ السلام کی مظلومیت
منصور عباسی کے مظالم
ایک دن منصور نے اپنے وزیر ربیع سے کہا کہ امام صادق علیہ السلام کو دربار میں بلاؤ ۔
ربیع نے منصور کے حکم کے مطابق امام علیہ السلام کو دربار میں بلوایا، منصور نے بہت ہی غیض و غضب کے عالم میں امام کی جانب رخ کر کے کہا : خدا مجھے قتل کر دے اگر میں تم کو قتل نہ کروں ! تم ہماری حکومت کے عیوب لوگوں کے سامنے بیان کرتے ہو ؟
امام علیہ السلام نے جواب دیا : جس نے تم کو یہ خبر دی ہے وہ جھوٹا ہے ۔
حضرت فاطمہ معصومہ سلام اللہ علیھا
معصومہ قم (س) کی ولادت با سعادت یکم ذیقعدہ سن ۱۷۳ ہجری میں مدینہ منورہ میں ہوئی آپ کے والد گرامی حضرت امام موسیٰ کاظم علیہ السلام اور والدہ حضرت نجمہ خاتون تھیں جو امام رضا علیہ السلام کی بھی والدہ ہیں ۔ اس لحاظ سے آپ کی پرورش ایسے ماحول میں ہوئی جو اخلاقی فضائل سے آراستہ تھا ۔ زہد و تقویٰ صداقت و عبادت مصائب و شدائد میں صبر و استقامت اور ذکر خدا میں مشغولیت اس خاندان کے برجستہ صفات میں سے ہے ۔
سرچشمہ علم و حکمت
امام رضا علیہ السلام کے اخلاقی فضائل
آپ کا اسم گرامی علی کنیت ابو الحسن اور مشہور لقب رضا ہے۔ آپ سلسلہ امامت کی آٹھویں کڑی اور دسویں معصوم ہیں ۔ آپ کی ولادت مشہور قول کی بنیاد پر ۱۱ ذیقعدہ سن ۱۴۸ ہجری کو ہے جبکہ بعض لوگوں نے ماہ ذی الحجہ یا ربیع الاول بھی لکھا ہے اور بعض مورخین نے آپ کا ولادت سن ۱۵۳ ہجری لکھا ہے ۔
چونکہ مولائے کائنات (ع) کا لقب بھی ابوالحسن تھا اس لئے آپ کو ابوالحسن ثانی کہتے ہیں اور آپ کا لقب رضا اس لئے ہے کہ دوست اور دشمن سبھی آپ سے راضی تھے ۔
شہادت امام محمد تقی علیہ السلام
باغ رسالت کے اس گلزار کی عمر اگر چہ مختصر تھی لیکن اس کی رنگ و بو سارا جہان معطر گیا ۔ امام تقی علیہ السلام سے جو احادیث مروی ہیں اور جن علمی مسائل کا آپ نے جواب دیا یا جو کلمات آپ کی زبان مبارک سے ادا ہوئے اور ہم تک پہنچے ہیں وہ رہتی دنیا تک تاریخ اسلام کے صفحات کی زینت بنے رہیں گے ۔ آپ کی کل عمر صرف پچیس برس تھی جس میں سترہ سال آپ کی امامت کے ہیں ۔
امام محمد باقر علیہ السلام زندان ہشام میں
اگر چہ امام باقر علیہ کی روش یہ نہ تھی کہ ظالم بادشاہ ھشام کی علانیہ مخالفت کریں لیکن آپ کا ہر کام اس طرح سے تھا کہ جس سے ظالم حکومت کی مخالفت ظاہر تھی اس لئے ہشام نے یہ فیصلہ کیا کہ آپ کو شام کی جانب شہر بدر کر دے ۔
ہشام کے کارندے امام باقر علیہ السلام کو آپ کے فرزند امام صادق علیہ السلام کے ہمراہ مدینہ سے شام لے گئے اور آنحضرت کی توہین کرنے کے لئے تین دن آپ کو دربار میں داخلے کی اجازت نہ دی اور آپ کو غلاموں کے ساتھ رکھا ۔
ہشام نے اپنے درباریوں سے کہا کہ جب محمد بن علی (امام باقر علیہ السلام ) دربار میں داخل ہوں گے تو میں پہلے ان کی سرزنش کروں گا اور جب میں خاموش ہو جاؤں تو تم لوگ مل کی ان کی سرزنش کرنا ۔